چین کے صدر Xi Jinping 8 اور 9 جون کو North Korea کا سرکاری دورہ کریں گے۔ سات برس بعد ہونے والا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران شی جن پنگ کی ملاقات شمالی کوریا کے رہنما Kim Jong Un سے ہوگی۔ دونوں رہنما دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
چین طویل عرصے سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اہم سفارتی حامی رہا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں پیانگ یانگ اور روس کے درمیان تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم بیجنگ اب بھی شمالی کوریا کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ چین کی جانب سے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور روایتی اتحادی کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
حالیہ عرصے میں چین نے متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں اور یہ دورہ بھی اسی وسیع سفارتی سرگرمی کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔
شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی گفتگو متوقع ہے۔ پیانگ یانگ کی جانب سے جوہری صلاحیتوں میں اضافے سے متعلق بیانات نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ شی جن پنگ کا یہ دورہ مشرقی ایشیا کی سفارتی اور سکیورٹی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔