اسرائیل اور لبنان نے سرحدی کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کے تحت ایک نئے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت متعدد مذاکراتی دوروں کے بعد امریکی ثالثی میں ممکن ہوئی۔
معاہدے کے مطابق جنوبی لبنان میں خصوصی سکیورٹی زون قائم کیے جائیں گے۔ ان علاقوں کی نگرانی اور انتظام مکمل طور پر لبنانی فوج کے سپرد ہوگا جبکہ کسی بھی مسلح گروہ کی سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد کی جائے گی۔
اہم شرائط میں ہر قسم کی فائرنگ اور عسکری کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دریائے لیتانی کے جنوب میں مخصوص علاقوں سے اسلحہ اور مسلح عناصر کے انخلا کو یقینی بنایا جائے گا۔
مذاکرات میں شریک حکام نے اس معاہدے کو خطے میں استحکام اور امن کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مستقبل میں وسیع تر سفارتی اور سکیورٹی کوششوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
جاری کردہ مشترکہ بیان میں زور دیا گیا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اور لبنان کے مستقبل سے متعلق فیصلے صرف ان کی خودمختار حکومتیں کریں گی۔ کسی بھی بیرونی مداخلت یا اثراندازی کو مسترد کیا جائے گا۔
علاقائی ماہرین کے مطابق اس جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار زمینی سطح پر اس کے نفاذ اور تمام فریقوں کی جانب سے معاہدے کی پاسداری پر ہوگا۔ آنے والے دن اس معاہدے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔