نکاراگوا کے معروف مقامی رہنما، سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکن بروکلین رویرا 73 برس کی عمر میں سرکاری حراست کے دوران انتقال کر گئے، جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
نکاراگوا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی موت ایک بیکٹیریل انفیکشن کے باعث ہوئی جو کووڈ-19 کے بعد پیدا ہوا تھا۔ تاہم ناقدین اور حقوق کے کارکنوں نے سرکاری مؤقف پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رویرا کو ستمبر 2023 میں دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد طویل عرصے تک ان کے اہل خانہ اور بیرونی دنیا کو ان سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی۔
مِسکیٹو مقامی برادری سے تعلق رکھنے والے رویرا اپنے لوگوں کی زمینوں اور حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں آواز سمجھے جاتے تھے۔ وہ صدر ڈینیل اورٹیگا اور روزاریو موریلو کی حکومت کے ناقدین میں شامل تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان کی گرفتاری سیاسی بنیادوں پر کی گئی تھی۔ اب ان کی وفات کے بعد عالمی سطح پر آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بروکلین رویرا کی وفات نکاراگوا میں مقامی حقوق اور خودمختاری کی جدوجہد کے ایک اہم باب کا اختتام سمجھی جا رہی ہے، تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد اور نظریات زندہ رہیں گے۔