امریکا کی ایک اہم کانگریسی کمیٹی نے دفاعی بجٹ میں شامل اس شق کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس شق کو ختم کرنے کے لیے کانگریس کے رکن رو کھنہ نے ایک ترمیم پیش کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں فوجی تعاون میں مزید اضافہ مناسب نہیں اور اس معاملے پر کانگریس میں زیادہ تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ تاہم کمیٹی میں ان کی ترمیم مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی۔
اس شق کے تحت امریکی محکمہ دفاع کو ایک ایسے اعلیٰ عہدیدار کا تقرر کرنا ہوگا جو دونوں ممالک کے مشترکہ دفاعی منصوبوں اور تعاون کی نگرانی کرے گا۔ ان منصوبوں میں دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق، ترقی، جانچ اور صنعتی شراکت داری شامل ہیں۔
اس اقدام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان موجود دفاعی روابط مزید مؤثر ہوں گے اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کی ترقی میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق یہ تعاون مشترکہ سکیورٹی مفادات کو بھی تقویت دے گا۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے فوجی تعاون کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے اور کانگریسی نگرانی کے بغیر دفاعی روابط مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ بعض تنظیموں نے خطے میں جاری تنازعات اور انسانی حقوق کے خدشات کے تناظر میں بھی اس پر سوالات اٹھائے ہیں۔
کمیٹی کے اجلاس کے دوران قومی سلامتی، دفاعی شراکت داری اور خارجہ پالیسی سے متعلق مختلف نکات پر بحث ہوئی۔ حامی ارکان نے اسے امریکی مفادات کے لیے اہم قرار دیا جبکہ مخالفین نے جوابدہی اور پالیسی ترجیحات پر تشویش ظاہر کی۔
یہ شق اب بھی وسیع دفاعی قانون سازی کا حصہ ہے اور امکان ہے کہ ایوانِ نمائندگان میں بل پیش ہونے پر اس پر مزید بحث اور ممکنہ ترامیم سامنے آئیں گی۔