کیرالہ میں تقریباً چار دہائیوں پرانا قتل کا معمہ ایک غیر متوقع اعتراف کے بعد حل ہو گیا۔ ایک شخص نے اپنے بیٹے کی وفات کے بعد شدید احساسِ جرم میں مبتلا ہو کر پولیس کے سامنے قتل سے متعلق اہم انکشافات کیے، جس کے نتیجے میں برسوں سے بند پڑی تفتیش دوبارہ شروع ہوئی۔
تحقیقات کے دوران مقتول کی شناخت 22 سالہ موہنن کے طور پر ہوئی، جو روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلا تھا اور پھر لاپتہ ہو گیا تھا۔ 1986 میں اس کی لاش ایک نالے سے ملی تھی، لیکن شناخت نہ ہونے کی وجہ سے اسے نامعلوم شخص سمجھ کر دفنا دیا گیا تھا۔
معاملے میں پیش رفت اس وقت ہوئی جب 56 سالہ محمد علی پولیس کے پاس پہنچا اور واقعے کے بارے میں اعترافی بیان دیا۔ پولیس کے مطابق اس نے بتایا کہ اپنے بڑے بیٹے کی موت اور خاندان میں پیش آنے والے ایک اور حادثے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور پچھتاوے کا شکار ہو گیا تھا۔
محمد علی نے دعویٰ کیا کہ نوجوانی کے زمانے میں کھیت میں کام کے دوران اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہوا تھا۔ اس کے مطابق جھگڑے کے دوران اس شخص کو دھکا لگا اور وہ نالے میں گر گیا، جس کے بعد وہ خوف کے باعث موقع سے فرار ہو گیا۔
اعتراف کے بعد پولیس نے کیس دوبارہ کھولا اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا۔ فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ایک خاکہ تیار کیا گیا جسے مختلف علاقوں میں دکھایا گیا۔ بعد ازاں مقتول کے رشتہ داروں نے خاکے کو پہچان لیا اور تفتیش کاروں سے رابطہ کیا۔
پرانے ریکارڈ، تصاویر اور دیگر شواہد کی مدد سے مقتول کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔ پولیس کے مطابق مقدمے کی قانونی کارروائی جاری ہے اور جلد تفصیلی چارج شیٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔