بہار کے شہر مظفرپور میں واقع پرساد اسپتال میں لگنے والی خوفناک آگ کے بعد حکام نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ آگ جمعرات کی علی الصبح اسپتال کی پانچویں منزل پر قائم آئی سی یو وارڈ میں لگی، جس کے بعد پورے اسپتال میں دھواں بھر گیا اور شدید افراتفری پھیل گئی۔
حکام کے مطابق اب تک پانچ مریضوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ متعدد دیگر مریضوں کو محفوظ طریقے سے نکال کر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
ریاستی حکومت نے واقعے کی جامع جانچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ اور ممکنہ کوتاہیوں کا پتہ لگایا جائے گا۔ اگر اسپتال انتظامیہ حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کی مرتکب پائی گئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب بعض عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں نے سرکاری اعداد و شمار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم ان دعوؤں کی ابھی تک سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
واقعے کے وقت موجود افراد کے مطابق عمارت میں دھواں اتنا زیادہ تھا کہ مریضوں کو نکالنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ مقامی افراد اور مریضوں کے تیمارداروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، جبکہ بعض گواہوں نے الزام لگایا کہ ہنگامی صورتحال میں اسپتال کا عملہ مؤثر مدد فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
صحت، فائر سروس اور ضلعی انتظامیہ کے حکام واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حتمی رپورٹ کے بعد آگ لگنے کی وجوہات، نقصانات اور ممکنہ غفلت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔