تازہ خبریں طرز زندگی
اناملائی نے بی جے پی چھوڑی، نئی سمت

تمل ناڈو بی جے پی کے سابق صدر کے اناملائی نے باضابطہ طور پر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

سابق آئی پی ایس افسر اناملائی نے 2021 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے بعد وہ تمل ناڈو میں پارٹی کے نمایاں چہروں میں شمار ہونے لگے اور تنظیمی سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹس کے مطابق وہ گزشتہ کچھ عرصے سے پارٹی میں اپنے مستقبل اور کردار کے حوالے سے مطمئن نہیں تھے۔ استعفیٰ دینے سے قبل انہوں نے نئی دہلی میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اناملائی نے ریاست میں بی جے پی کی شناخت اور عوامی رسائی بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پارٹی نے اپنی سیاسی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی۔

ان کے قریبی ذرائع کے مطابق اب وہ ایک نئے عوامی اور نظریاتی پلیٹ فارم پر کام کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ قوم پرست اور تمل شناخت پر مبنی ایک تحریک شروع کر سکتے ہیں۔

فی الحال اس منصوبے کو غیر سیاسی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں عوامی حمایت کی بنیاد پر اس کے سیاسی جماعت میں تبدیل ہونے کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔

اناملائی جلد اپنے قریبی حامیوں اور ساتھیوں سے مشاورت کے بعد آئندہ حکمتِ عملی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ان کا اگلا قدم تمل ناڈو کی سیاست میں خاص اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

News Image

اناملائی نے بی جے پی چھوڑی، نئی سمت

  • تمل ناڈو بی جے پی کے سابق صدر کے اناملائی نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ان کے سیاسی مستقبل پر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
BY Saba Parveen ·