تائیوان کی اپوزیشن رہنما چینگ لی وُن نے چین کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات چین کے مشرقی شہر نانجنگ میں سن یات سین کے مزار پر ایک علامتی دورے کے دوران کہی۔
چینگ، جو کہ کومنتانگ کی چیئرپرسن ہیں، نے بدھ کے روز سن یات سین کے مزار پر پھول چڑھاتے ہوئے ان کے اتحاد، مساوات اور شمولیت کے نظریات کو اجاگر کیا اور آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف کے درمیان پرامن تعلقات پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، "ہمیں مفاہمت اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے اور خطے میں خوشحالی اور امن پیدا کرنا چاہیے"، اور تصادم کے بجائے مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بیجنگ خود مختار جزیرے پر فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے، جسے وہ اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تائیوان میں سیاسی تعطل بھی جاری ہے، جہاں اپوزیشن کے زیرِ اثر پارلیمنٹ نے 40 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کو روک رکھا ہے۔
سن یات سین، جنہوں نے چین کی آخری شاہی سلطنت کا خاتمہ کیا اور 1912 میں جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی، ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں تائیوان اور چین دونوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تائیوان انہیں اپنے بانی کے طور پر مانتا ہے جبکہ چین کی کمیونسٹ پارٹی انہیں قومی ہیرو اور انقلابی رہنما قرار دیتی ہے۔
اپنی تقریر میں چینگ نے تائیوان کی جمہوری ترقی کا اعتراف کیا اور مارشل لا کے ماضی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے چین کی ترقی کو بھی سراہا اور اسے "توقعات سے بڑھ کر" قرار دیا۔
تاہم، ان کے اس بیان پر حکمران ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (DPP) کی جانب سے تنقید کی گئی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امن صرف مکالمے سے ممکن نہیں بلکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے واضح کیا ہے کہ جزیرے کا مستقبل صرف تائیوان کے عوام ہی طے کریں گے، جبکہ چین انہیں علیحدگی پسند قرار دے کر ان سے بات چیت سے انکار کر رہا ہے۔
چینگ کے دورے کے دوران سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے، اور ماہرین کے مطابق یہ دورہ ایک سفارتی اشارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس سیاسی قدم بھی ہے، جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور اندرونی سیاسی دباؤ کا توازن برقرار رکھنا ہے۔
یہ دورہ تائیوان کے اندر چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گہرے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے، اور ساتھ ہی بیجنگ کی اس حکمت عملی کو بھی نمایاں کرتا ہے جس میں فوجی دباؤ کے ساتھ سیاسی روابط کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔