طرز زندگی تازہ خبریں
حزب اللہ نے حملے روک دیے، اسرائیل کی لبنان میں کارروائیاں جاری

 ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل اور لبنان میں اسرائیلی افواج پر اپنے حملے روک دیے ہیں، جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی وسیع تر جنگ بندی کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، اور اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بھی کہا ہے کہ "لبنان میں جنگ جاری ہے" اور جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں انخلا کے احکامات برقرار ہیں۔
 
یہ صورتحال جنگ بندی کی مختلف تشریحات کو ظاہر کرتی ہے، جو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی ثالثی میں طے پائی تھی، جنہوں نے عندیہ دیا تھا کہ لبنان بھی اس معاہدے میں شامل ہوگا۔

اگرچہ حزب اللہ نے حملے روک دیے ہیں، لیکن زمینی صورتحال میں تشدد جاری ہے۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری جاری رہی، جن میں ایک اسپتال کے قریب مہلک حملہ بھی شامل ہے۔ جنوبی شہر صیدا میں بھی حملوں کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے خبردار کیا کہ تنظیم کا یہ صبر اسرائیل کے اقدامات پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر اسرائیلی دشمن جنگ بندی پر عمل نہیں کرتا تو کوئی فریق بھی اس کا پابند نہیں رہے گا"، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

لبنان میں انسانی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ حکام کے مطابق 12 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ وسیع تباہی اور معاشی بحران نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ شہریوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور وہ ایسی جنگ بندی کی امید کر رہے ہیں جس میں لبنان بھی شامل ہو۔

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے صورتحال کو "انتہائی نازک" قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کو بھی جنگ بندی کے معاہدے میں شامل کیا جائے۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھے اور انہیں اپنی شمولیت کے حوالے سے کوئی باضابطہ یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ وہ ملک کو کسی بھی طویل مدتی امن معاہدے کا حصہ بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

یہ پیش رفت موجودہ جنگ بندی کی نازک اور محدود نوعیت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں اور کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ برقرار ہے۔