تازہ خبریں طرز زندگی
ٹرمپ کی ہرمز ناکہ بندی کی دھمکی، ایران پہلے ہی پابندیاں لگا چکا

 امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایران پہلے ہی اس اہم آبی راستے پر جزوی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جاری تنازع کے دوران تہران پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔

اگرچہ ایران نے آبنائے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا، لیکن اس نے گزرنے والے جہازوں پر زیادہ محصولات عائد کر کے اور محدود رسائی دے کر اس کی آمد و رفت کو کنٹرول کر رکھا ہے، جبکہ اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھی ہوئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی حکمت عملی یہ ہے کہ ایران کی تیل کی ترسیل مکمل طور پر روک دی جائے تاکہ اس کی آمدنی ختم ہو اور وہ اپنی فوجی سرگرمیوں کی مالی معاونت نہ کر سکے۔

تاہم اس طرح کے اقدام سے عالمی سطح پر بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

اب تک امریکا نے مکمل ناکہ بندی سے گریز کیا ہے تاکہ عالمی منڈیوں میں جھٹکے سے بچا جا سکے، اور بعض اوقات ایرانی تیل کی محدود ترسیل کی اجازت دے کر قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

ٹرمپ کی تازہ دھمکی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی معاشی اور اسٹریٹجک برتری کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عالمی تیل منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کیوں نہ پیدا ہو۔
News Image

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تو “طویل اور دردناک” جوابی کارروائیاں ہوں گی

  • تہران نے خلیجی خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ کمزور جنگ بندی اور جاری ناکہ بندی کے باوجود امریکہ کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔
BY Saba Parveen ·