تازہ خبریں طرز زندگی
جنگ نے ایران کو جوہری مذاکرات میں زیادہ طاقتور بنا دیا

 2015 کے جوہری معاہدے میں شامل سابق امریکی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازع نے ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو نمایاں طور پر مضبوط کر دیا ہے، جس سے اسے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت میں نئی برتری حاصل ہوئی ہے۔

جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کے مذاکرات کاروں کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی شمولیت کے ساتھ فوجی کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اقدام نے تہران کو ایک طاقتور اسٹریٹجک ہتھیار فراہم کیا ہے، جو امریکی اثر و رسوخ کا توازن قائم کر سکتا ہے۔

سابق ایلچی ایلن آئیر نے کہا کہ اہم بحری تجارتی راستے کو متاثر کرنے کی صلاحیت ایران کو ایک متبادل دفاعی طاقت دیتی ہے، جس سے اس کا جوہری صلاحیتوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اس معاہدے سے الگ ہو گیا، جس کے بعد پابندیاں اور فوجی دباؤ دوبارہ بڑھا دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات نے مذاکرات کو مزید مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ ایران اب زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے اور اپنے حق میں بہتر شرائط کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک وفد ایرانی حکام سے بات چیت کرنے والا ہے، جبکہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے واضح حکمت عملی کے بغیر حل تلاش کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں، جن میں سابق ایلچی رابرٹ مالی بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس سے ایک جامع معاہدہ مزید مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ دونوں فریق اب جوہری معاملات سے آگے بڑھ کر علاقائی سیکیورٹی اور فوجی امور کو بھی مذاکرات کا حصہ بنا رہے ہیں۔
News Image

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تو “طویل اور دردناک” جوابی کارروائیاں ہوں گی

  • تہران نے خلیجی خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ کمزور جنگ بندی اور جاری ناکہ بندی کے باوجود امریکہ کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔
BY Saba Parveen ·