ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل 7 اپریل 2026 کو دعویٰ کیا کہ 14 ملین ایرانی شہری، جن میں وہ خود بھی شامل ہیں، امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن سے کچھ پہلے سامنے آیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کم نہ کیا تو ایران کے پاور اسٹیشنز اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پزشکیان نے کہا، 14 ملین سے زائد ایرانی عوام نے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے،" اور مزید کہا کہ وہ خود بھی ملک کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔
یہ تعداد اس سے قبل سرکاری میڈیا میں بتائی گئی رضاکاروں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ حکومت جنگ کے دوران عوامی حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تقریباً 90 ملین آبادی والے ایران میں حکام میڈیا مہمات اور پیغامات کے ذریعے عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان قومی یکجہتی ظاہر کرنے اور ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کو روکنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کے اندر بعض حلقے حکومت کی پالیسیوں اور ماضی کے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے طریقے پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے، سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، اور مزید تصادم کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔