طرز زندگی تازہ خبریں
سری لنکا کا ایندھن سبسڈی کا اعلان، توانائی بحران میں بھارت کی حمایت حاصل

 سری لنکا نے جاری ویسٹ ایشیا تنازع کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے پیش نظر معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایندھن سبسڈی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

صدر انورا کمارا دسانائیکے نے منگل 7اپریل 2026 کو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈیزل پر فی لیٹر 100 سری لنکن روپے اور پٹرول پر 20 روپے کی رعایت دے گی۔ اس اقدام سے حکومت کو ماہانہ تقریباً 20 ارب سری لنکن روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چار اہم شعبوں—ایندھن، توانائی، گیس اور کھاد—پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ بڑھتے معاشی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کا فوری حل ضروری ہے۔

صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بھارت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کے بعد سری لنکا کو پٹرول اور ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ روس کے ساتھ گیس، کوئلہ، ایندھن اور کھاد کے حصول کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

سری لنکا نے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں کیونکہ عالمی سطح پر سپلائی میں خلل برقرار ہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ مرکزی بینک نے حال ہی میں مارکیٹ سے 700 ملین ڈالر خریدے ہیں۔

یہ معاشی اقدامات مارچ میں ایندھن کی قیمتوں میں کئی بار اضافے کے بعد سامنے آئے ہیں، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہوئے۔ آخری اضافے میں قیمتیں 25 فیصد سے زائد بڑھ گئی تھیں۔

توانائی کے تحفظ کے لیے حکومت نے پہلے چار روزہ ورک ویک متعارف کرایا تھا، تاہم اب اسے ختم کرتے ہوئے دوبارہ پانچ روزہ ورک ویک بحال کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے مزید ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

بھارت اس سے قبل بھی سری لنکا کو ہنگامی ایندھن فراہم کر چکا ہے، جس میں انڈین آئل کارپوریشن کے مقامی یونٹ کے ذریعے کولمبو کو 38,000 میٹرک ٹن ایندھن کی فراہمی شامل ہے، جو بحران کے دوران دونوں ممالک کے قریبی تعاون کو ظاہر کرتا ہے۔
News Image

امریکی سیاست میں پاکستانی تارکین وطن کا کردار

  • امریکی سیاست میں پاکستانی تارکین وطن۔
BY Zainab Malik ·