وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا، امریکہ ایک عارضی جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہا ہے تاکہ جنگ کو روکنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
\r\nامریکی میڈیا کے مطابق کے مطابق یہ گفتگو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) شروع ہوئی اور اس دوران ٹرمپ نے روس کی طرف سے دی جانے والی ممکنہ رعایتوں پر تبادلہ خیال کیا، جن میں مقبوضہ علاقوں سے فوج کے انخلا کا امکان بھی شامل تھا۔
\r\nٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات میں زمین، توانائی کے منصوبے اور دیگر وسائل کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے، وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف ڈین سکاوینو نے بتایا کہ گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی اور مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی تھی۔
\r\nدوسری جانب کریملن نے تصدیق کی کہ پیوٹن اس بات چیت کے لیے پہلے سے تیار تھے اور روسی حکام نے اس گفتگو کے لیے اپنی حکمت عملی مرتب کر لی تھی۔
\r\nگزشتہ ماہ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد امریکہ نے مذاکرات کی راہ ہموار کی تھی جس کے نتیجے میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی واشنگٹن کا دورہ کیا، تاہم، اس ملاقات کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھی جب ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر دباؤ ڈالا اور بعد میں فوجی امداد کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔
\r\nسیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک 30 روزہ جنگ بندی منصوبے پر بات چیت ہوئی جسے یوکرین نے قبول کر لیا ہے، اب امریکہ روس کو اس پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ٹرمپ کے مطابق "روس کے پاس تمام اختیارات ہیں۔