لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیر کو بھارت کی ڈیٹا خودمختاری پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ کے ساتھ ڈیجیٹل تجارت کے مذاکرات میں حکومت شفافیت نہیں برت رہی۔
بھارت-امریکہ تجارتی فریم ورک سے متعلق جاری بات چیت پر گفتگو کرتے ہوئے، گاندھی نے کہا کہ بھارت کا ڈیٹا اس کے عوام کی ملکیت ہے اور اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی ٹیکنالوجی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ایک بیان میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ کے ساتھ ڈیجیٹل تجارت میں "رکاوٹیں کم کرنے" کا مطلب بھارت کی ڈیٹا پالیسیوں کے لیے کیا ہوگا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا حساس معلومات جیسے صحت کے ریکارڈ، مالیاتی ڈیٹا اور سرکاری ڈیٹابیس ملک کے اندر ہی محفوظ رہیں گے، اور کیا بھارت غیر ملکی کمپنیوں پر ڈیٹا لوکلائزیشن کے قوانین نافذ کرنے کا اختیار برقرار رکھے گا۔
گاندھی نے حکومت کے جوابات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا تحفظ، اے آئی ضابطہ سازی اور ڈیجیٹل خودمختاری جیسے اہم مسائل کو "فریم ورک" اور "توازن" جیسے مبہم الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے، بغیر کسی واضح تفصیل کے۔ ان کے مطابق حکومت یہ واضح نہیں کر رہی کہ مذاکرات میں کیا رعایتیں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے ہونا چاہیے، لیکن اس کے بجائے ملک اس بات پر غیر یقینی کا شکار ہے کہ اس کا ڈیٹا کیسے محفوظ کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے ڈیٹا کو کس طرح استعمال اور محفوظ کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل لوک سبھا اجلاس کے دوران بھی گاندھی نے وزارت الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے باضابطہ طور پر سوالات اٹھائے تھے، اور مجوزہ تجارتی معاہدے کے تحت بھارت کے وعدوں اور موجودہ ڈیٹا لوکلائزیشن قوانین کے درمیان ہم آہنگی پر وضاحت طلب کی تھی۔
ان خدشات کے جواب میں وزیر مملکت جتن پرساد نے کہا کہ بھارت کا آئی ٹی سیکٹر مضبوط ہے، جس کی آمدنی 2024-25 میں 280 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ برآمدات 225 ارب ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تجارت معیشت کا ایک اہم حصہ ہے، جو 60 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت عالمی سطح پر ڈیجیٹل تجارتی شراکت داریوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کر چکا ہے، جن میں ڈیجیٹل تجارت کی شقیں شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق ان معاہدوں میں بھارت کی ریگولیٹری خودمختاری کو محفوظ رکھا گیا ہے اور امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد ایک منصفانہ اور متوازن ڈیجیٹل تجارتی ماحول قائم کرنا ہے۔
یہ بحث ڈیٹا کی ملکیت، ڈیجیٹل خودمختاری اور عالمی اے آئی و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت کے کردار سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتی ہے۔