مڈل ایسٹ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ اب 36ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور حالات مسلسل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکہ کے دو اہم لڑاکا طیارے—F-15 اور A-10—کو مار گرایا ہے۔
اگرچہ امریکہ نے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں ان واقعات کی تصدیق سامنے آئی ہے۔
F-15 حادثہ: ایک پائلٹ محفوظ، دوسرا لاپتہ
رپورٹس کے مطابق F-15 لڑاکا طیارہ ایران کے جنوبی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔ طیارے میں دو افراد سوار تھے، جن میں سے ایک کو امریکہ نے بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے، جبکہ دوسرا پائلٹ اب تک لاپتہ ہے۔ اس کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔
خطرناک ریسکیو آپریشن
امریکہ نے لاپتہ پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے “کمبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو” آپریشن شروع کیا ہے۔ اس میں خصوصی تربیت یافتہ اہلکار بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے علاقے میں بھیجے جاتے ہیں۔
اگر ہیلی کاپٹر نہ پہنچ سکے تو AC-130 گن شپ کے ذریعے پیراشوٹ کے ذریعے اہلکاروں کو زمین پر اتارا جاتا ہے۔
ان اہلکاروں کا مقصد ہوتا ہے:
لاپتہ پائلٹ سے رابطہ کرنا
طبی امداد فراہم کرنا
دشمن سے بچاؤ یا مقابلہ کرنا
اور محفوظ مقام تک نکالنا
ماہرین کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔
ریسکیو ٹیم بھی نشانے پر
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی، جس میں کچھ اہلکار زخمی ہو گئے۔
اس کے علاوہ ایک A-10 طیارے پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے بعد پائلٹ کو ایجیکٹ کرنا پڑا، تاہم اسے بعد میں بحفاظت بچا لیا گیا۔
ایران کا دعویٰ اور سرچ آپریشن
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی طیاروں کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے قریب مار گرایا گیا۔
لاپتہ پائلٹ کی تلاش کوہگیلویہ-بویر احمد اور خوزستان کے علاقوں میں جاری ہے۔ ایران نے مقامی لوگوں سے بھی معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی نقصانات میں اضافہ
پینٹاگون کے مطابق اس جنگ میں اب تک 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 13 ہلاک ہوئے ہیں۔
زخمیوں کی تفصیل:
آرمی: 247
نیوی: 63
میرین: 19
ایئر فورس: 36
یہ اعداد و شمار جنگ کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ F-15 طیارے کے گرائے جانے کا ایران کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا، “یہ جنگ ہے اور ہم جنگ میں ہیں۔”
تاہم بعض رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں رک چکی ہیں۔
اسرائیل کا دعویٰ
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کی تقریباً 70 فیصد اسٹیل پیداوار کی صلاحیت تباہ ہو چکی ہے، جس سے اس کی عسکری طاقت کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ جنگ اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ ایران اور اس کے اتحادیوں نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور توانائی کے ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
ایران نے ان ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جو امریکہ کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈے فراہم کر رہے ہیں۔
سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر حملہ
مارچ میں سعودی عرب میں واقع امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
رپورٹس کے مطابق عمارت کی تین منزلیں تباہ ہو گئیں اور سی آئی اے اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا۔ آگ کئی گھنٹوں تک لگی رہی۔
مڈل ایسٹ کی یہ جنگ اب ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنے پائلٹ کو بچانے کے لیے خطرناک آپریشن کر رہا ہے، تو دوسری جانب ایران اور اس کے اتحادی جوابی حملے تیز کر رہے ہیں۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے
کیا یہ جنگ یہیں رکے گی یا دنیا ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟